30 اپریل 2012 - 19:30

القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بن لادن کی برسی امریکہ میں انتخابی مہم کے ایک اہم موضوع میں تبدیل ہو گئی ہے۔ دو مئی کو اسامہ بن لادن کی برسی سے قبل امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما اور میٹ رامنی اس مسئلے کو امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابنا: کچھ عرصہ قبل باراک اوباما کے انتخابی دفتر نے ایک تشہیراتی کلپ میں دعوی کیا کہ اگر میٹ رامنی امریکہ کے صدر ہوتے تو اسامہ بن لادن کے قتل کرنے کا حکم دینے کی جرات نہ کرتے۔ اس کے مقابل ڈیموکریٹس نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جسے انتخابی مہم کا حصہ بنایا جائے انہوں نے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی مفادات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی اسامہ بن لادن کی موت سمیت ہر مسئلہ امریکہ میں انتخابی مہم میں شامل ہو گيا ہے۔ جس طرح ایک زمانے میں اسامہ بن لادن کا زندہ ہونا امریکی سیاستدانوں کے لیے فائدہ مند تھا اسی طرح اس وقت مردہ اسامہ بن لادن بھی ان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

نوے کی دہائی میں کہ جب ایک اور ڈیموکریٹ صدر وائٹ ہاؤس میں تھا، اسامہ بن لادن نے اپنے اقدامات کے ذریعے امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع اٹھانے کا راستہ ہموار کیا۔ اس زمانے میں امریکی صدر بل کلنٹن نے وہائٹ ہاؤس کی ملازمہ کے ساتھ اپنے جنسی اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کے لیے سوڈان میں القاعدہ کی موجودگی کے بہانے اس ملک پر ہوائی حملہ کیا۔

چند سال بعد کہ جب ریپبلکن پارٹی برسراقتدار آئی تو پھر اسامہ بن لادن نئے امریکی حکمرانوں کی مدد کو آیا تاکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کے بہانے دو ہزار میں جارج ڈبلیو بش کی صدارتی انتخابات میں متنازعہ کامیابی پر امریکی عوام کی منفی ذہنیت کو منحرف کر کے اس مسئلے کو طاق نسیان کی زینت بنا دے۔ دو ہزار چار کے صدارتی انتخابات میں جارج ڈبلیو بش عراق اور افغانستان پر لشکر کشی کی وجہ سے چار سال قبل سے زیادہ ووٹ لے کر ایک بار پھر صدر منتخب ہو گیا۔

البتہ دو ہزار آٹھ میں کہ جب اقتصادی بحران نے پوری دنیا پر اپنے سائے ڈال رکھے تھے، اسامہ بن لادن کے خلاف جنگ کا موضوع امریکی انتخابات میں اپنا رنگ نہ دکھا سکا اور امریکی عوام نے اس شخص کو ووٹ دیے کہ جس نے افغانستان اور عراق میں جنگ بند کرنے کا نعرہ لگایا تھا۔ لیکن اب اسامہ بن لادن کی روح امریکہ کے صدارتی انتخابات میں پلٹ آئی ہے تاکہ یہ بتائے کہ یہ شخص مرنے کے بعد بھی سیاسی و تشہیراتی طور پر فائدہ مند ہے۔

باراک اوباما اس کوشش میں ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت کے واقعے کو بڑھا چڑھا کر اقتصادی اور سماجی شعبوں میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالے اور خود کو ایسا شخص قرار دے کہ جس نے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن کو نیست و نابود کر دیا۔

اسی بنا پر ڈیموکریٹ امیدوار کے برخلاف ریپبلکن پارٹی اس بار القاعدہ کے خلاف جنگ کو انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنانا چاہتی اور وہ باراک اوباما کی جانب سے اسامہ بن لادن کے قتل کا حکم دینے کو غیراہم ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ اس وقت امریکی عوام کے لیے اسامہ بن لادن کی موت سے زیادہ امریکی اقتصاد، روزگار اور معیشت اہم ہے۔

.......

/169